پکی سڑکیں بننے سے پہلے الاحساء کے لیے باہر کی دنیا کا دروازہ العقیر تھا۔ خلیج عرب کے کنارے کی اس قدیم بندرگاہ پر کھجوروں اور سامان سے لدی کشتیاں لنگر ڈالتی تھیں، اور اسی کے راستے خبریں اور تجارت جزیرہ نما عرب کے قلب تک پہنچتی تھیں۔ آج العقیر میں دو ایسے منظر ملتے ہیں جو کم ہی یکجا ہوتے ہیں: صحرا سے پھیلتی چلی آتی نرم سفید ریت، اور خلیج عرب کی شفاف نیلاہٹ جو وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں ریت ختم ہوتی ہے۔ مٹی کی عمارتوں کے آثار اور پرانا قلعہ آج بھی اس جگہ کی نگہبانی کر رہے ہیں، اور آنے والے کو یاد دلاتے ہیں کہ یہ پرسکون ساحل کسی زمانے میں ایسی چہل پہل کا مرکز تھا جو تھمنے کا نام نہ لیتی تھی۔ یہاں تاریخ بھی ہے اور ٹھہر کر سوچنے کا موقع بھی: آپ وہاں چل پھر سکتے ہیں جہاں سے کبھی قافلے گزرتے تھے، اور اس ریت پر بیٹھ سکتے ہیں جو سمندر کو چھوتی ہے۔
العقیر
سعودی عرب کے مشرقی ساحل کی پہلی سمندری بندرگاہ، جہاں صحرا کی ریت خلیج عرب کی نیلاہٹ سے جا ملتی ہے۔
عمومی سوالات
کیا العقیر میں داخلے کی کوئی فیس ہے؟
نہیں۔ العقیر ایک کھلا عوامی مقام ہے جہاں داخلے کی کوئی فیس نہیں۔
العقیر کہاں ہے؟
خلیج عرب کے ساحل پر، الاحساء کے مشرقی حصے میں۔
العقیر کی سیر کے لیے بہترین وقت کون سا ہے؟
غروب آفتاب سے ذرا پہلے کا وقت، جب سفید ریت پانی کی نیلاہٹ کے پس منظر میں دمک اٹھتی ہے۔
العقیر میں کیا دیکھا جا سکتا ہے؟
پرانی بندرگاہ کی مٹی کی عمارتوں کے آثار اور اس کا قلعہ، اور نرم سفید ریت جو خلیج عرب کے پانی سے جا ملتی ہے۔
اس مقام کا ذکر کرنے والے مضامین
اپنا دن بھرپور بنائیں
آس پاس کے مقامات، جن سے آپ اپنی سیر مکمل کر سکتے ہیں۔

العقیر کی بندرگاہ کی مسجد
1 کلومیٹر سے کم
قلعہ العقیر
1 کلومیٹر سے کم
العقیر کا ساحل سمندر
تقریباً 12 کلومیٹرفاصلے اندازاً دیے گئے ہیں، سیدھی لکیر کے حساب سے۔

