نخلستان کی نعمتیں

الاحساء کے موسمی پھل

دنیا کے سب سے بڑے نخلستان میں باغوں پر ایک کے بعد ایک موسم آتا ہے، اور ہر موسم سیاحوں کے لیے ایک نیا پھل اور نیا ذائقہ لاتا ہے: گرمیوں کے سنہری رطب اور نخلستان کے مشہور لیموں سے لے کر سردیوں کے کنار تک۔ رطب تازہ پکی کھجوروں کو کہتے ہیں، اور کنار بیر کو۔

25 لاکھ
نخلستان میں کھجور کے درخت
4 لاکھ
کھجور کے درختوں کے علاوہ پھل دار درخت

گنیز ورلڈ ریکارڈز کے اندراج (اکتوبر 2020) اور ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق۔

پھلوں کا تعارف

ہر موسم کا ایک پھل

اپنی سیر کا موسم چنیں اور اس کے پھل دیکھیں:

کھجوریں، نخلستان کا تاج

کھجور الاحساء کی سب سے اہم فصل ہے۔ مختلف سرکاری اطلاعات کے مطابق اس کی سالانہ پیداوار تقریباً 1 لاکھ سے 1.2 لاکھ ٹن تک ہے، جبکہ سعودی خبر رساں ادارے نے اکتوبر 2024 میں 2 لاکھ ٹن سے زیادہ کی پیداوار بتائی۔ یہ نخلستان دنیا میں کھجور کے درختوں کے سب سے بڑے جینیاتی ذخیروں میں سے ایک ہے: 2021 میں الاحساء میں کھجور کے درختوں اور کھجوروں کے مرکز نے 127 سے زیادہ ملکی اور غیر ملکی اقسام جمع کر کے گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔ بعض ذرائع کے مطابق کل پیداوار کا تقریباً تین چوتھائی حصہ خلاص، شیشی اور رزیز نامی اقسام کا ہوتا ہے۔

ایک ہی تھال پر دو پیالوں میں خلاص کے سنہری رطب اور کہربائی رنگ کی پوری پکی کھجوریں
کھجوریں

خلاص

رطب: وسط جولائی سے اگست کے اواخر تک • پوری پکی کھجور: تقریباً 15 سے 25 ستمبر تک

یہ الاحساء کی کھجوروں کی پہچان اور ان کی سب سے مشہور قسم ہے۔ یہی سب سے زیادہ بکتی ہے، اور نخلستان کے 15 سے 20 فیصد کھجور کے درخت اسی قسم کے ہیں۔ اس کا پھل بیضوی اور درمیانے حجم کا ہوتا ہے، اس میں ریشہ کم ہوتا ہے، رنگ سنہری سے کہربائی تک، گودا نرم اور ذائقہ میٹھا، متوازن اور خوشبودار۔ لمبے عرصے تک رکھنے کے بعد بھی اس کا ذائقہ برقرار رہتا ہے۔ لوگ اسے روایتی طور پر عربی قہوے کے ساتھ سخاوت اور مہمان نوازی کی علامت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس میں جست، مینگنیز اور سیلینیم جیسی معدنیات بھرپور مقدار میں ہوتی ہیں۔

ایک ہی تھال میں شیشی کے پیلے رطب اور بھوری پوری پکی کھجوریں
کھجوریں

شیشی

رطب: جون کے اواخر میں • پوری پکی کھجور: وسط اگست سے اگست کے اواخر تک

خلاص کے بعد یہ الاحساء کی سب سے مشہور اور سب سے زیادہ مانگی جانے والی قسم ہے۔ اس کا پھل بڑا ہوتا ہے، گودا موٹا اور نسبتاً نرم، رنگ زیادہ تر بھورا اور نچلا حصہ سنہری پیلا، اور مٹھاس بہت تیز۔ یہ دیر تک خراب نہیں ہوتی، اس لیے ذخیرہ کرنے اور منجمد کرنے کے لیے بہت موزوں ہے، تاکہ سال بھر کھائی جا سکے۔ اس سے دبس (کھجور کا شیرہ) اور کھجور کی دوسری مصنوعات بھی بنتی ہیں۔

پیتل کے پیالے میں رزیز کھجوروں سے بنے، تل لگے سفسیف کے گولے
کھجوریں

رزیز

پوری پکی کھجور: موسم کے آخر میں، تقریباً اکتوبر کے شروع میں

یہ الاحساء کی ان کھجوروں میں سے ہے جو سب سے پرانی ہیں اور پرانے زمانے میں سب سے زیادہ مشہور تھیں۔ اس کا شمار بہترین اور سب سے زیادہ غذائیت والی اقسام میں ہوتا ہے۔ اسی سے “سفسیف” بنتا ہے، جو سردیوں کی ایک مشہور مٹھائی ہے۔ یہ مٹھائی رزیز کھجوروں، دبس اور تل سے تیار ہوتی ہے اور مہمانوں کی بیٹھکوں میں پیش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ خود دبس بھی اسی سے بنتا ہے۔ آج یہ نسبتاً نایاب ہو گئی ہے، کیونکہ زیادہ تر کاشتکار خلاص اگانے لگے ہیں۔

کھجور کے پتوں کے بیچ لٹکتا ہوا پیلی برحی کھجوروں کا خوشہ
کھجوریں

برحی

رطب: گرمیوں میں

یہ الاحساء اور عرب دنیا میں رطب کی سب سے مشہور اقسام میں سے ایک ہے۔ یہ اصل میں عراق کی کھجور ہے، اور انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں الاحساء اور القصیم پہنچی۔ یہ غیر معمولی طور پر میٹھی اور نرم ہوتی ہے، اور پیلے بلح (بسر) کے مرحلے میں بھی اس میں کسیلی کڑواہٹ نہیں ہوتی، اس لیے اسے تینوں مرحلوں میں کھایا جاتا ہے: بلح، رطب اور پوری پکی کھجور کی صورت میں۔ پکتے پکتے اس کا رنگ ہرے سے پیلا اور پھر کہربائی ہو جاتا ہے۔

مختلف قسم کے رطب کے پیالے: غر، خنیزی اور شہل
کھجوریں

جلد پکنے والی بواکیر اور مقامی اقسام

رطب اور پوری پکی کھجور: مئی کے اواخر سے اکتوبر تک

بڑی اقسام کے علاوہ نخلستان میں درجنوں مقامی اقسام ہیں جن سے موسم شروع یا ختم ہوتا ہے: سب سے پہلے طیار، مجناز اور غر نامی کھجوریں پکتی ہیں، پھر خنیزی، شیشی اور خلاص، جبکہ ام رحیم، زاملی اور ہلالی جیسے دیر سے پکنے والے رطب وسط اگست تک ملتے ہیں۔ ان کے ساتھ شبیبی، شہل، وصیلی، حاتمی، کاسبی اور دوسری اقسام بھی ہیں۔

ترشاوہ پھل

الاحساء کے ہرے لیموں اور ایک کٹا ہوا آدھا لیموں
ترشاوہ پھل

الاحساء کا لیموں (بن زہیری)

گرمیاں: وسط جون سے اگست کے آخر تک

کھجور کے بعد یہ الاحساء کی دوسری بڑی زرعی پیداوار ہے۔ اس کا پھل چھوٹا، گہرا ہرا اور پتلے چھلکے والا ہوتا ہے، رس سے بھرا ہوا، ذائقہ خوب کھٹا اور خوشبو اتنی تیز کہ یہ باقی تمام ترشاوہ پھلوں سے الگ پہچانا جاتا ہے۔ نخلستان میں پھل دینے والے لیموں کے 1 لاکھ سے زیادہ درخت ہیں، اور ایک درخت ایک موسم میں 25 سے 30 کلوگرام پھل دیتا ہے۔ اس سے الاحساء کی گرمیوں کی ایک پرانی اور عزیز روایت جڑی ہے: خاندان مل بیٹھ کر اس کا رس نچوڑتے اور سال بھر کے لیے محفوظ کرتے ہیں۔ دھوپ میں رکھے اور پرانے کیے ہوئے اس رس کو “جمید” کہتے ہیں۔ الاحساء میں ہر سال “حساوی لیموں کی نمائش” میں اس کا جشن منایا جاتا ہے۔ الاحساء ایوان تجارت یہ نمائش الاحساء کی ترقی کے ادارے کے ساتھ مل کر منعقد کرتا ہے۔

جھری دار چھلکے والے ہرے اترنج (ترنج) کے پھل
ترشاوہ پھل

اترنج

سردیاں: جنوری سے مارچ کے شروع تک

یہ ترشاوہ پھلوں کی ایک قدیم قسم ہے۔ اس کا پھل بڑا اور خوشبودار ہوتا ہے اور چھلکا موٹا اور جھری دار۔

گرمیوں کے پھل

الاحساء کے خربوزے اور ایک کٹی ہوئی قاش
گرمیوں کے پھل

الاحساء کا پیلا خربوزہ

گرمیاں: تقریباً مئی کے اواخر سے

یہ ایک زرعی اور ثقافتی ورثہ ہے جو کاشتکاروں میں نسل در نسل چلا آ رہا ہے۔ یہ مقامی نسل چن چن کر کاشت کرنے اور بہترین بیج سنبھال کر رکھنے سے بنی، اور اسی سے اسے اپنا مخصوص پیلا رنگ ملا اور الاحساء کی گرمی اور پانی کی کمی جھیلنے کی صلاحیت بھی۔ یہ میٹھا اور خوشبودار ہوتا ہے، اس میں پانی، ریشہ، وٹامن سی، پوٹاشیم اور کیروٹینائڈز بھرپور مقدار میں ہوتے ہیں اور حرارے کم۔ گرمیوں میں یہ قدرتی طور پر جسم کو تراوٹ پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔

الاحساء کے انجیر اور ایک کٹا ہوا آدھا انجیر جس کا گودا نظر آ رہا ہے
گرمیوں کے پھل

الاحساء کا انجیر

گرمیاں

یہ گرمیوں کا ایک پسندیدہ پھل ہے۔ الاحساء میں اس کی سب سے مشہور قسم لیموں جیسے ہلکے ہرے رنگ کی ہوتی ہے، اور ہر انجیر بس ایک لقمے جتنا ہوتا ہے۔ یہ شکر جیسا میٹھا اور نرم ہوتا ہے، اور بہت سے انجیروں کے برعکس جلد خراب نہیں ہوتا۔ اسے عموماً الگ باغوں میں نہیں بلکہ کھجور کے باغات میں لیموں اور انار کے ساتھ جگہ جگہ لگایا جاتا ہے، اس لیے اس کے درختوں کی کوئی درست تعداد معلوم نہیں۔ کچھ کاشتکار اسے سکھا کر محفوظ کر لیتے ہیں۔ یہ ایک بابرکت پھل ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔

بمبر کے پھل
گرمیوں کے پھل

الاحساء کا بمبر

گرمیاں: تقریباً جولائی اور اگست میں

یہ ایک روایتی پھل ہے، جسے بڑی عمر کے لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔ اس کا سائنسی نام Cordia myxa ہے، اور اسے سبستان، مخیط اور ہمبو بھی کہتے ہیں۔ اس کا چھوٹا بیضوی پھل پکنے پر ہرے سے پیلا یا بھورا ہو جاتا ہے۔ ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اور گودا اتنا چپچپا کہ اس کی چپچپاہٹ ضرب المثل بن گئی ہے۔ لوگ اسے تازہ کھاتے ہیں، اور روایتی طور پر نظام ہاضمہ کے دیسی علاج میں بھی استعمال کرتے ہیں۔

الاحساء کے انگوروں کا ایک خوشہ
گرمیوں کے پھل

الاحساء کے انگور

گرمیاں: گرمیوں کے شروع سے

یہ چھوٹے دانوں والا ایک مقامی بیج دار انگور ہے، جسے چھوٹا ہونے کے باوجود لوگ اس کے ذائقے کی وجہ سے پسند کرتے ہیں، اور اس کی سرخ اور سبز دو قسمیں ہیں۔ گرمیوں کا موسم آتے ہی لیموں، انجیر اور رطب کے ساتھ اس کی فصل بھی آنے لگتی ہے۔ لیکن مقامی اخبارات میں چھپے کاشتکاروں اور بیچنے والوں کے بیانات کے مطابق اس کی پیداوار بہت کم ہو گئی ہے، اور پانی کی قلت اور زیر کاشت رقبہ گھٹنے کی وجہ سے یہ قسم معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

السواری انار اور ایک کٹا ہوا آدھا انار جس کے سرخ دانے چمک رہے ہیں
گرمیوں کے پھل

الاحساء کا انار (السواری) تقریباً ناپید

یہ ایک قدیم مقامی پھل ہے، اور اس کے سب سے بڑے پھلوں کو “السواری” کہا جاتا ہے۔ یہ اتنا میٹھا ہوتا ہے کہ مٹھاس کی شدت سے پھٹ جاتا ہے، اور اس کا رنگ بہت شوخ ہوتا ہے۔ کبھی پورے نخلستان میں انجیر اور لیموں کے ساتھ اس کی بکثرت کاشت ہوتی تھی، لیکن الاحساء کے کئی روایتی پھلوں کی طرح اس کی پیداوار اتنی گھٹ گئی ہے کہ یہ باغوں سے تقریباً ناپید ہو چکا ہے، اور آج یہ کم ہی ملتا ہے۔

ایک پپیتا اور ایک کٹا ہوا آدھا پپیتا جس کا نارنجی گودا نظر آ رہا ہے
گرمیوں کے پھل

پپیتا

گرمیاں: جون سے اگست تک

یہ ایک استوائی پھل ہے جس کا گودا نارنجی اور میٹھا ہوتا ہے۔ گرمیوں میں یہ نخلستان کے باغوں میں پکتا ہے۔

بہار اور سردیوں کے پھل

الاحساء کے سرخ اور سیاہ شہتوتوں کا ڈھیر
بہار کے پھل

الاحساء کا شہتوت

بہار: تقریباً اپریل میں، موسم بمشکل ایک مہینے کا

یہ بہار کا ایک پھل ہے جس کا موسم مختصر ہوتا ہے۔ سردی کی آخری لہریں گزرتے ہی یہ آ جاتا ہے۔ اس کے چھوٹے، تقریباً گول دانے سرخ، سیاہ اور نیلے رنگ کے ہوتے ہیں، اور الاحساء کے باغوں میں سرخ اور سیاہ زیادہ ہیں۔ موسم اتنا مختصر ہونے ہی کی وجہ سے اس کی مانگ بہت زیادہ رہتی ہے۔ لوگ اسے تازہ کھاتے ہیں، مٹھائیوں، آئس کریم، رس اور مربوں میں ڈالتے ہیں، اور موسم ختم ہونے پر منجمد کر لیتے ہیں۔ اس کی کاشت نخلستان کی امید افزا فصلوں میں شمار ہوتی ہے۔

کنار کے پھل
سردیوں کے پھل

الاحساء کا کنار (نبق)

سردیاں: تقریباً جنوری سے مارچ کے آخر تک

یہ سردیوں کا ایک قدیم پھل ہے جو سدر یعنی بیری کے درخت پر لگتا ہے۔ اس درخت کا ذکر قرآن مجید میں آیا ہے۔ نخلستان آج بھی اس کا زرخیز گھر ہے، اور اس کی کئی قسمیں ہیں: “تفاحی” (سیب جتنا بڑا)، “ام صلیم” (چھوٹا اور بغیر گٹھلی کے) اور “صینی” (بڑا اور ہرا)، نیز ناشپاتی جیسی اور ہندوستانی قسمیں۔ یہ میٹھا ہوتا ہے اور بچوں کو خاص طور پر پسند ہے، لیکن اسے زیادہ دن رکھا نہیں جا سکتا۔ بازاروں میں اس کی خریداری کے ساتھ اس کے اپنے لوک گیت بھی جڑے ہیں۔

نخلستان کے پھلوں کے موسم، جیسے اوپر پھلوں کے ساتھ درج ہیں
پھلموسمزمرہ
خلاصرطب: وسط جولائی سے اگست کے اواخر تک • پوری پکی کھجور: تقریباً 15 سے 25 ستمبر تککھجوریں، نخلستان کا تاج
شیشیرطب: جون کے اواخر میں • پوری پکی کھجور: وسط اگست سے اگست کے اواخر تککھجوریں، نخلستان کا تاج
رزیزپوری پکی کھجور: موسم کے آخر میں، تقریباً اکتوبر کے شروع میںکھجوریں، نخلستان کا تاج
برحیرطب: گرمیوں میںکھجوریں، نخلستان کا تاج
جلد پکنے والی بواکیر اور مقامی اقسامرطب اور پوری پکی کھجور: مئی کے اواخر سے اکتوبر تککھجوریں، نخلستان کا تاج
الاحساء کا لیموں (بن زہیری)گرمیاں: وسط جون سے اگست کے آخر تکترشاوہ پھل
اترنجسردیاں: جنوری سے مارچ کے شروع تکترشاوہ پھل
الاحساء کا پیلا خربوزہگرمیاں: تقریباً مئی کے اواخر سےگرمیوں کے پھل
الاحساء کا انجیرگرمیاںگرمیوں کے پھل
الاحساء کا بمبرگرمیاں: تقریباً جولائی اور اگست میںگرمیوں کے پھل
الاحساء کے انگورگرمیاں: گرمیوں کے شروع سےگرمیوں کے پھل
پپیتاگرمیاں: جون سے اگست تکگرمیوں کے پھل
الاحساء کا شہتوتبہار: تقریباً اپریل میں، موسم بمشکل ایک مہینے کابہار اور سردیوں کے پھل
الاحساء کا کنار (نبق)سردیاں: تقریباً جنوری سے مارچ کے آخر تکبہار اور سردیوں کے پھل

اس صفحے کی معلومات کی درستی

یہ صفحہ قابل اعتماد سرکاری اور زرعی ذرائع پر مبنی ہے، اور ہم ہر بات شائع کرنے سے پہلے اس کی تصدیق ضرور کرتے ہیں۔

پھل پکنے کا وقت موسمی حالات کے مطابق سال بہ سال تھوڑا آگے پیچھے ہو جاتا ہے۔