قلعہ العقیر خلیج عرب کے ساحل پر، الاحساء کے مشرقی حصے میں، العقیر کی تاریخی بندرگاہ کی عمارتوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ بندرگاہ سعودی عرب کے مشرقی ساحل کی پہلی سمندری بندرگاہ ہے، اور پرانے زمانے میں یہ سمندر کی طرف نجد کا دروازہ تھی۔ یہاں سے ملنے والے آثار قدیمہ گواہی دیتے ہیں کہ اس جگہ تجارت کا سلسلہ نہایت قدیم زمانوں تک جاتا ہے۔ آج جو عمارتیں دکھائی دیتی ہیں ان میں قلعہ، سرائے، امارت کی عمارت، چنگی خانہ اور مسجد شامل ہیں۔ اسی بندرگاہ پر 1341 ہجری (1922 عیسوی) میں سرحدوں کے تعین کے لیے معاہدہ العقیر پر دستخط ہوئے۔ بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں دمام کی بندرگاہ قائم ہوئی تو العقیر کی بندرگاہ کی اہمیت گھٹ گئی، اور اس کی عمارتیں ایک پورے دور کی گواہ بن کر رہ گئیں۔ 1990 کی دہائی کے اواخر میں ان کی مرمت ہوئی۔ اس مقام پر مرمت کا کام جاری ہے، اور ممکن ہے کہ اس کے کچھ حصے بند ہوں۔
تاریخی مقامات
قلعہ العقیر
بندرگاہ کی نگہبانی کرتا ایک تاریخی قلعہ، جو العقیر کی پرانی تجارتی خوش حالی کا گواہ ہے۔
اس مقام کی تصویریں


اپنا دن بھرپور بنائیں
آس پاس کے مقامات، جن سے آپ اپنی سیر مکمل کر سکتے ہیں۔

مساجد اور مذہبی مقامات
العقیر کی بندرگاہ کی مسجد
1 کلومیٹر سے کم
تاریخی مقامات
العقیر
1 کلومیٹر سے کم
قدرتی مقامات
العقیر کا ساحل سمندر
تقریباً 12 کلومیٹرفاصلے اندازاً دیے گئے ہیں، سیدھی لکیر کے حساب سے۔

