یہ تاریخی مسجد خلیج عرب کے ساحل پر، الاحساء کے مشرقی حصے میں، العقیر کی تاریخی بندرگاہ کے احاطے میں واقع ہے۔ یہ بندرگاہ سعودی عرب کے مشرقی ساحل کی پہلی سمندری بندرگاہ ہے، اور پرانے زمانے میں یہ سمندر کی طرف نجد کا دروازہ تھی۔ ملاح، تاجر اور مسافر اسی مسجد میں نماز ادا کرتے تھے۔ اس مسجد کا شمار بندرگاہ کے ان حصوں میں ہوتا ہے جن کی تعمیر و ترقی شاہ عبد العزیز کے دور میں ہوئی۔ ان میں قلعہ، سرائے، امارت کی عمارت اور چنگی خانہ بھی شامل ہیں۔ یہ وہ دن تھے جب العقیر، الاحساء کی تجارتی شہ رگ ہوا کرتا تھا۔ تاریخی مساجد کی مرمت کے منصوبے کے تحت الاحساء کی چند اور تاریخی مساجد کے ساتھ اس مسجد کی بھی مرمت ہوئی، اور اس کام میں الجبیل اور ینبع کے شاہی کمیشن نے تعاون کیا۔ آج یہ مسجد تاریخی بندرگاہ کی حدود کے اندر کھڑی ہے، اور اس پوری داستان کا ایک حصہ ہے جو پرانی بندرگاہ اپنے ہاں آنے والوں کو سناتی ہے۔
مساجد اور مذہبی مقامات
العقیر کی بندرگاہ کی مسجد
العقیر کی بندرگاہ کے احاطے میں واقع تاریخی مسجد۔ یہ مسجد بندرگاہ کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کی ترقی شاہ عبد العزیز کے دور میں ہوئی۔
اپنا دن بھرپور بنائیں
آس پاس کے مقامات، جن سے آپ اپنی سیر مکمل کر سکتے ہیں۔

تاریخی مقامات
قلعہ العقیر
1 کلومیٹر سے کم
تاریخی مقامات
العقیر
1 کلومیٹر سے کم
قدرتی مقامات
العقیر کا ساحل سمندر
تقریباً 12 کلومیٹرفاصلے اندازاً دیے گئے ہیں، سیدھی لکیر کے حساب سے۔

