العقیر کے ساحل کا راستہ
جہاں سمندری تجارت سعودی ریاست کی تاریخ سے آ ملی
یہ راستہ مشرق میں خلیج عرب کے ساحل تک جاتا ہے۔ پہلے ایک بندرگاہ آتی ہے، جو الاحساء اور نجد کے لیے سمندر کا دروازہ تھی، اور جہاں وہ مذاکرات ہوئے جن سے اس خطے کی سرحدیں طے ہوئیں۔ اس کے بعد ایک ساحل سمندر ہے، جہاں آپ خاندان کے ساتھ وقت گزار سکتے ہیں۔ اس سفر کے لیے پورا دن رکھیں، اور سورج ڈوبنے سے پہلے واپسی کی راہ لیں۔
راستے کے پڑاؤ
العقیر کی تاریخی بندرگاہ
شاہ عبد العزیز کے تحقیقی اور دستاویزی ادارے (الدارہ) کے مطابق العقیر خلیج عرب کے کنارے سعودی عرب کے مشرقی ساحل کی پہلی سمندری بندرگاہ ہے۔ یہ الاحساء اور نجد کا معاشی دروازہ اور مملکت کے مشرقی اور وسطی حصوں میں داخلے کا مرکزی راستہ تھی۔ پھر تیل دریافت ہوا اور دمام کی بندرگاہ بنی تو اس کی اہمیت ماند پڑ گئی۔ شاہ عبد العزیز کے دور کی اس کی عمارتوں میں چنگی خانہ، پاسپورٹ کا دفتر، گھاٹ، سرائے، امارت کی عمارت، قلعہ اور مسجد شامل ہیں۔ مملکت کے بانی بادشاہ یہاں غیر ملکی سفارت کاروں سے ملتے تھے، اور 1922 میں العقیر کا اجلاس بھی یہیں ہوا، جس میں عراق اور کویت کے ساتھ نجد کی سرحدیں طے ہوئیں۔
العقیر کا ساحل سمندر
سمندر کے کنارے یہ جگہ سیر اور خاندانی سرگرمیوں کے لیے ہے، اور اسے الاحساء کی بلدیہ نے سنوارا ہے۔ ساحل پر ایک جدید کھلی تماشا گاہ بھی ہے، جو بلدیہ نے تقریبات کے لیے بنائی ہے۔ مقامی لوگ اسے “المسرح الرومانی” (رومی تماشا گاہ) کہتے ہیں، مگر یہ ایک نئی عمارت ہے، رومی دور کے آثار میں سے نہیں۔
الاحساء کا نخلستان، ایک ارتقا پذیر ثقافتی منظر، 2018 میں یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں درج ہوا۔ یونیسکو کا نشان صرف اسی پڑاؤ پر دکھایا جاتا ہے جو عالمی ورثے میں شامل نخلستان کے بارہ حصوں میں سے کسی میں ہو۔
راستے کا نقشہ
نقشے پر صرف وہ پڑاؤ دکھائے گئے ہیں جو کسی سیاحتی مقام کے صفحے سے جڑے ہیں۔
الاحساء کی سیر کے لیے تجویز کردہ راستے۔
سیر کے تمام راستے