سیر کے تجویز کردہ راستے

تاریخی ہفوف کا راستہ

پرانے شہر کے قلب میں تعمیراتی ورثہ

تجویز کردہ دورانیہ
آدھا دن
سفر کا ذریعہ
پیدل
پڑاؤ
4
یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل پڑاؤ
2

یہ راستہ پرانے ہفوف میں سوق القیصریہ نامی بازار اور محلہ الکوت کے درمیان سے گزرتا ہے۔ راستے میں ایک قلعہ آتا ہے جہاں عثمانی فوجی دستہ رہتا تھا، پھر وہ گھر جہاں الاحساء کے لوگوں نے شاہ عبد العزیز کے ہاتھ پر بیعت کی، الاحساء کا پہلا حکومتی اسکول، اور ایک چھت دار بازار جس کی رونق آج بھی قائم ہے۔ سارے پڑاؤ پاس پاس ہیں، اس لیے انہیں صبح کے وقت یا سہ پہر ڈھلنے کے بعد پیدل دیکھنا بہتر ہے۔

راستے کے پڑاؤ

  1. قصر ابراہیمیونیسکو

    محلہ الکوت کے شمالی کنارے پر واقع یہ قلعہ دسویں صدی ہجری (سولہویں صدی عیسوی) کا ہے۔ بعد میں عثمانیوں نے اسے الاحساء میں اپنے فوجی دستے کا صدر مقام بنایا۔ اس میں دو طرز تعمیر یکجا ہیں: مذہبی طرز، جو مسجد القبہ کی محرابوں اور گنبدوں میں نظر آتا ہے، اور فوجی طرز، جس کی جھلک بڑے بڑے برجوں، سپاہیوں کی رہائش گاہوں اور گھوڑوں کے اصطبلوں میں ملتی ہے۔ یہ سب مٹی، بھوسے اور کھجور کے تنوں سے بنا ہے۔ شاہ عبد العزیز نے 1331 ہجری (1913 عیسوی) میں الاحساء کو دوبارہ سعودی ریاست میں شامل کیا۔ الاحساء کا نخلستان یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں درج ہے، اور یہ قلعہ اس کے حصوں میں سے ایک ہے۔

    سیاحتی مقام کا صفحہ دیکھیں

  2. بیت البیعہ (بیت الملا)

    محلہ الکوت میں الملا خاندان کا یہ گھر الاحساء کے روایتی طرز تعمیر کا عمدہ نمونہ ہے۔ شاہ عبد العزیز کے تحقیقی اور دستاویزی ادارے (الدارہ) کے مطابق یہ 1203 ہجری (1788 عیسوی) میں تعمیر ہوا۔ 1331 ہجری (1913 عیسوی) میں شاہ عبد العزیز الاحساء میں داخل ہوئے تو یہیں ٹھہرے، اور یہیں الاحساء کے لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اسی لیے یہ گھر بیت البیعہ، یعنی بیعت کا گھر، کہلایا۔ مرمت کے بعد اب یہ سیاحوں کے لیے کھلا ہے، اور سعودی عرب کے متحد ہونے کی تاریخ کے ایک فیصلہ کن لمحے کا گواہ ہے۔

    سیاحتی مقام کا صفحہ دیکھیں

  3. مدرسہ امیریہ

    یہ الاحساء میں ابتدائی تعلیم کا پہلا سرکاری اسکول ہے۔ یہاں پڑھائی 1356 ہجری (1937 عیسوی) میں شروع ہوئی، اور موجودہ عمارت کا باقاعدہ افتتاح محرم 1360 ہجری میں ہوا۔ تقریباً 1,200 مربع میٹر پر پھیلی اس عمارت کا صحن چوکور ہے، جس کے گرد نیم گول محرابوں والے برآمدے ہیں۔ طلبہ کی پہلی جماعت 1943 میں یہاں سے فارغ التحصیل ہوئی، اور سعودی ریاست کی کئی نمایاں شخصیات نے یہیں تعلیم پائی۔ آج یہ عمارت “بیت الثقافہ” (ثقافت کا گھر) کہلاتی ہے، اور یہاں ورثہ کمیشن کا “بیت الحرفیین” (دستکاروں کا گھر) نامی منصوبہ چلتا ہے، جو 2022 میں شروع ہوا۔

    سیاحتی مقام کا صفحہ دیکھیں

  4. سوق القیصریہیونیسکو

    ہفوف کے وسط میں یہ تاریخی چھت دار بازار 1238 ہجری (1822 عیسوی) میں بنا۔ یہ 15,000 مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہے۔ اس کے چودہ دروازے اور تقریباً 422 دکانیں ہیں، جہاں کپڑا، روایتی لباس، بخور اور مقامی مصنوعات بکتی ہیں۔ 2001 میں آگ سے اسے نقصان پہنچا، پھر اس کی ازسرنو تعمیر ہوئی، اور 2013 کے آخر میں یہ پوری طرح دوبارہ کھل گیا۔ الاحساء کا نخلستان یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں درج ہے، اور یہ بازار اس کے حصوں میں سے ایک ہے۔ یہی اس راستے کا فطری اختتام بھی ہے۔

    سیاحتی مقام کا صفحہ دیکھیں

الاحساء کا نخلستان، ایک ارتقا پذیر ثقافتی منظر، 2018 میں یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں درج ہوا۔ یونیسکو کا نشان صرف اسی پڑاؤ پر دکھایا جاتا ہے جو عالمی ورثے میں شامل نخلستان کے بارہ حصوں میں سے کسی میں ہو۔

راستے کا نقشہ

نقشے پر صرف وہ پڑاؤ دکھائے گئے ہیں جو کسی سیاحتی مقام کے صفحے سے جڑے ہیں۔

الاحساء کی سیر کے لیے تجویز کردہ راستے۔

سیر کے تمام راستے