تاریخی مقامات

بیت البیعہ

محلہ الکوت میں الملا خاندان کا تاریخی گھر، جسے الاحساء کے قاضی نے 1203 ہجری (1788 عیسوی) میں تعمیر کیا۔ یہیں 1913 میں الاحساء کے لوگوں نے شاہ عبد العزیز کے ہاتھ پر بیعت کی، اور یوں یہ گھر سعودی ریاست میں الاحساء کی شمولیت کی علامت بن گیا۔

بیت البیعہ (یعنی بیعت کا گھر) ہفوف کے وسط میں، محلہ الکوت میں ہے، اور بیت الملا کے نام سے بھی معروف ہے۔ یہاں سے چند قدم کے فاصلے پر سوق القیصریہ نامی بازار اور قصر ابراہیم ہیں۔ یہ گھر 1203 ہجری (1788 عیسوی) میں الاحساء کے قاضی شیخ عبد الرحمن بن عمر بن محمد الملا نے تعمیر کیا۔ اس کا رقبہ 705 مربع میٹر ہے۔ بعد میں یہ عبد اللطیف بن عبد الرحمن الملا (1853–1921) کا گھر رہا۔ وہ الملا خاندان کے بزرگ، فقیہ اور قاضی تھے۔ شاہ عبد العزیز 28 جمادی الاول 1331 ہجری (4 مئی 1913 عیسوی) کو الاحساء پہنچے تو سب سے پہلے اسی گھر میں داخل ہوئے۔ یہیں الاحساء کے لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور سعودی ریاست میں شامل ہو گئے۔ یوں یہ گھر جدید سعودی ریاست میں الاحساء کی شمولیت کی علامت بن گیا، اور تاریخی اور سیاسی اہمیت کے لحاظ سے یہ الاحساء کے نمایاں ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ آثار قدیمہ اور عجائب گھروں کے سعودی ادارے نے 2005 سے 2007 تک اس کی مرمت کی۔ تب سے الاحساء کے لوگ سعودی قومی دن یہیں مناتے آئے ہیں۔ اب یہ ایک عجائب گھر ہے: اس کے کمروں میں نوادرات، اوزار، مخطوطات اور تصویریں رکھی ہیں، جو اس گھر کی کہانی سناتی ہیں۔ لکڑی کی کھڑکیوں والا یہ سفید گھر دو منزلہ ہے۔ نچلی منزل پر مہمانوں کے استقبال کا ایک بڑا صحن ہے جس کی طرف اندرونی جھروکے کھلتے ہیں۔ یہیں مہمانوں کے بیٹھنے کی جگہیں ہیں، اور یہیں لباس اور ذاتی استعمال کی چیزیں نمائش کے لیے رکھی ہیں۔ اوپر کی منزل کے کمرے زیادہ تر سونے اور رہنے سہنے کے لیے تھے، اور ان کی دیواروں پر تاریخی اور وضاحتی تصویریں لگی ہیں۔

اس مقام کا ذکر کرنے والے مضامین

اپنا دن بھرپور بنائیں

آس پاس کے مقامات، جن سے آپ اپنی سیر مکمل کر سکتے ہیں۔

فاصلے اندازاً دیے گئے ہیں، سیدھی لکیر کے حساب سے۔

ان راستوں میں شامل

تمام مقامات ←