آج جس پہاڑ کو جبل الشبعان کہتے ہیں، وہ جبل القارہ سے ہٹ کر کھڑا ایک چٹانی ٹیلہ ہے۔ یہ ہفوف کے مشرق میں التویثیر گاؤں کے قریب ہے، اور اس کا ایک اور مقامی نام بھی ہے: “ابا الکباری”۔ لیکن قدیم تاریخی تحریروں میں “الشبعان” خود جبل القارہ کا ایک نام تھا۔ جغرافیہ دان یاقوت الحموی نے اسی نام سے جبل القارہ کا ذکر یوں کیا ہے: “بحرین کا ایک پہاڑ، جس کے غاروں میں لوگ ٹھنڈک ڈھونڈتے ہیں”۔ یہاں بحرین سے مراد مشرقی ساحل کا تاریخی علاقہ ہے۔ “الشبعان” کے معنی “شکم سیر” ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ نام کھجور کے ان درختوں اور اس پانی کی وجہ سے پڑا جو کبھی جبل القارہ کو گھیرے ہوئے تھے۔ جب اس مشہور پہاڑ کے لیے “القارہ” کا نام رائج ہو گیا تو “الشبعان” کا نام اس پڑوسی ٹیلے کا ہو کر رہ گیا۔ جبل القارہ کے غاروں اور سیر کی تفصیلات کے لیے جبل القارہ کا صفحہ دیکھیں۔
قدرتی مقامات
جبل الشبعان
التویثیر کے قریب الگ تھلگ کھڑا ایک چٹانی پہاڑ، جسے “ابا الکباری” بھی کہتے ہیں۔ قدیم تحریروں میں “الشبعان” جبل القارہ کا نام تھا۔
اپنا دن بھرپور بنائیں
آس پاس کے مقامات، جن سے آپ اپنی سیر مکمل کر سکتے ہیں۔

زرعی فارم
حساوی لیموں کا باغ
تقریباً 3 کلومیٹر
مساجد اور مذہبی مقامات
مسجد الجعلانیہ
تقریباً 3 کلومیٹر
روایتی بازار
دستکاروں کا بازار
تقریباً 5 کلومیٹرفاصلے اندازاً دیے گئے ہیں، سیدھی لکیر کے حساب سے۔

