الاحساء کا نخلستان یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں درج ہے، اور جھیل الاصفر اس کے بارہ حصوں میں سے ایک ہے۔ صحرا کے بیچوں بیچ پانی کا ایسا پھیلاؤ کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ جسے سکون اور کھلے افق کی تلاش ہو، وہ یہیں کا رخ کرتا ہے۔ یہ جھیل مہاجر پرندوں کا پڑاؤ ہے، جو شمال اور جنوب کے درمیان آتے جاتے سال میں دو بار یہاں سے گزرتے ہیں۔ مہاجر پرندے سردیوں کے آغاز سے مئی تک یہاں ٹھہرتے ہیں۔ 2019 میں ماحولیات، پانی اور زراعت کی وزارت نے اسے محفوظ قدرتی علاقہ بنانے کا اعلان کیا۔ یہ جھیل نخلستان کے کھجور کے باغات کے شمال مشرق میں ہے۔ یہاں کا سب سے حسین وقت غروب آفتاب کا ہے، جب پانی کی سطح سنہری روشنی میں نہا جاتی ہے۔ یہی تصویر کشی کرنے والوں اور فطرت کے شائقین کا پسندیدہ وقت ہے۔
جھیل الاصفر
خلیج عرب کے خطے کے سب سے بڑے آبی اجسام میں سے ایک، جہاں مہاجر پرندے اور فطرت کے شائقین کھنچے چلے آتے ہیں۔
یونیسکو کے عالمی ورثے کا حصہ نمبر 1563-012عمومی سوالات
کیا جھیل الاصفر کی سیر کی کوئی فیس ہے؟
نہیں۔ جھیل الاصفر ایک کھلا قدرتی مقام ہے جہاں کوئی فیس نہیں۔
جھیل الاصفر کہاں ہے؟
الاحساء کے نخلستان کے کھجور کے باغات کے شمال مشرق میں۔ بالکل درست جگہ دیکھنے کے لیے “سیاحوں کے لیے معلومات” والے حصے میں “گوگل میپس پر دیکھیں” کا لنک کھولیں۔
کیا جھیل الاصفر یونیسکو کے عالمی ورثے کا حصہ ہے؟
جی ہاں۔ الاحساء کا نخلستان یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں درج ہے، اور یہ جھیل اس کے بارہ حصوں میں سے ایک ہے۔
جھیل الاصفر کی سیر کے لیے بہترین وقت کون سا ہے؟
غروب آفتاب کا وقت، جب پانی دمک اٹھتا ہے اور پرندوں کے جھنڈ لوٹ آتے ہیں۔
اپنا دن بھرپور بنائیں
آس پاس کے مقامات، جن سے آپ اپنی سیر مکمل کر سکتے ہیں۔

الاحساء قومی پارک
تقریباً 12 کلومیٹر
مسجد جواثا
تقریباً 14 کلومیٹر
جواثا پارک
تقریباً 14 کلومیٹرفاصلے اندازاً دیے گئے ہیں، سیدھی لکیر کے حساب سے۔

